اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، روز ہفتہ، 27 جولائی
(2024ع) کی شام کو مقبوضہ جولان کے علاقے کے دروز آبادی کے شہر مجدل شمس کے ایک
فٹ بال گراؤنڈ پر ایک مشکوک میزائل لگنے سے درجنوں افراد جان بحق اور زخمی ہوئے۔
صہیونیوں نے تحقیق و تفتیش کے بغیر ہی حزب
اللہ لبنان کے مجاہدین پر اس حملے کا الزآم لگایا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ حملہ
خود صہیونیوں نے کیا تھا۔
صہیونی جرائم پیشہ گینگ کے سرغنے نیتن یاہو نے ـ جو امریکہ کے دورے پر تھا ـ مشکوک موقف اپنا کر مقاومت لبنان کو شدید جوابی کاروائی کی دھمکی دی، حالانکہ جولان کے باشندوں، دروزیوں کے راہنماؤں اور خود صہیونی امدادی کارکنوں نے مذکورہ الزام کو بے بنیاد قرار دیا تھا اور واضح ہو چکا تھا کہ یہ حملہ صہیونیوں نے خود انجام دیا تھا۔ حزب اللہ لبنان نے بھی اپنے بیان میں اس حملے کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اس واقعے میں حزب اللہ ملوث نہیں ہے۔ دروزیوں کے لبنانی راہنما ولید جنبلاط نے صہیونیوں کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا: "اتنا ہی جھوٹ کافی ہے، جولان، یا مقبوضہ فلسطین اور لبنان میں دروزی عربوں کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہانے کا یہ سلسلہ مزید بند ہونا چاہئے، کافی ہے، بس ہے"۔ [1]
جنوبی لبنان کے مسائل کے ایک تجزیہ کار نے امریکی کانگریس میں امریکیوں کی طرف سے نیتن یاہو کے والہانہ استقبال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ابھی تک مجدل شمس کے واقعے کی ابتدائی معلومات بھی موصول نہیں ہوئی تھیں کہ صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نے خطے میں نئی مہم جوئی شروع کرنے کے لئے اپنی مٹھی کھول دی۔ مجدل شمس کے واقعے کے ایک دن بعد پس پردہ تفصیلات سامنے آئیں اور معلوم ہؤا کہ صہیونی اور امریکی مقبوضہ جولان میں (ایک جنگ اور بحران پیدا کرنے کی غرض سے) خود زنی کا منصوبہ (Self-harm Project) نافذ کرکے خطے میں نئی جنگ شروع کرنے کے لئے ماحول سازی کر رہے ہیں۔
مذکورہ تجزیہ کار کہا کہنا تھا کہ مقبوضہ جولان میں خود زنی اور صہیونیوں کی مظلومیت کی اداکاری، کئی مقاصد کے حصول کے لئے امریکی ـ صہیونی مشترکہ حملے کے آغاز کے لئے تھی؛ چنانچہ صہیونیوں نے 30 جولائی کی شام کومحور مقاومت کی سرخ لکیر عبور کر لی اور بیروت کے جنوبی نواحی علاقے ضاحیہ پر حملہ بنایا اور اس حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر فؤاد شُکر شہید ہو گئے۔
چند ہی گھنٹے بعد امریکی سرگرم ہوئے اور انھوں نے صوبہ بابل کے شمال میں کتائب حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا۔ اس حملے میں عراقی کمانڈر ابوالحسن المالکی سمیت چار عراقی مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔
خود زنی کا امریکی - صہیونی منصوبہ سلسلہ وار تھا اور اس کا تیسرا مرحلہ 31 جولائی کی صبح کو تہران میں انجام کو پہنچا اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنایا؛ یہ الگ بات ہے کہ یہ منصوبہ امریکیوں کے لئے ایک مہلک اور ناقابل تلافی غلطی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اب انہیں تہران کی طرف سے ایسے جواب کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے بعد وہ کبھی بھی کوئی ایسا اقدام کرنے کی ہمت نہیں کرسکيں گے۔
مذکورہ تجزیہ کار کا کہنا تھا صہیونیوں کی موجودہ روش کو انہیں غزہ میں درپیش 10 مہینوں سے جاری ناکامیوں اور نتیجے کے حصول سے عاجزی، کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ غاصب صہیونی ریاست غزہ میں اپنے اعلان کردہ کسی ایک مقصد کے حصول میں بھی ناکام رہی ہے۔ صہیونیوں نے لاکھوں فلسطینیوں کو شہید اور زخمی کردیا ہے، غزہ کو ویران کر دیا ہے، 60 ارب ڈالر سے زیادہ اخراجات برداشت کئے ہیں، لیکن غزہ اس کے لئے ایک دلدل کی حیثیت رکھتا ہے جس میں وہ دھنس گئی ہے اور اندرونی اور بیرونی دباؤ میں بھی مسلسل اضافہ ہؤا ہے، چنانچہ اس نے اس دباؤ سے خارج ہونے کے لئے مہم جوئی کا پراجیکٹ اپنا لیا تاکہ سانس لینے کا موقع میسر آئے مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔
صہیونی اس وقت اپنے آپ کو زوال اور تباہی کے دہانے پر دیکھ رہے ہیں اور اس بھنور سے نکلے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اور اب اس نے دہشت گردی، قاتلانہ حملوں اور خطے میں جنگ کے نئے محاذ کھولنے اور تمام سرخ لکیروں کو عبور کرنے کی سعی ک رہے ہیں تاکہ ابتدائی طور پر اندرون خانہ ـ نوآباکار یہودیوں کے ہاں ـ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کریں اور دوسرے مرحلے میں محاذ مقاومت کو غزہ کی حمایت سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیں! اور یوں غزہ میں اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ صہیونی عناصر ان مہم جوئیوں کے ذریعے محاذ مقاومت کو ایک ہمہ جہت جنگ میں پھنسانے اور پھر امریکہ کو اس جنگ میں کودنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس صورت حال سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
تاہم امریکیوں اور صہیونیوں کو ایک خاص مسئلہ درپیش ہے، اور وہ یہ ہے کہ مقاومتی محاذوں میں فکرمندی اور تشویش نظر نہیں آ رہی ہے کیونکہ انھوں نے طویل عرصے سے خود کو ایسے ہی دنوں کو لئے تیار کر رکھا ہے، وہ سب ایسے ہی حالات سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی کر چکے ہیں اور وسائل فراہم کر چکے ہیں چنانچہ وہ خونخواہی کے عہد پر کاربند ہیں اور وہ اگلے اوقات یا ایام میں ضرور ایک عظیم کاروائی کا آغاز کریں گے، لیکن یہ کاروائی "وعدہ صادق" آپریشن سے بالکل مختلف ہوگی، گوکہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ وہ کتنا ہتھیار استعمال کریں اور صہیونی اور امریکی اڈوں کو کس انداز سے نشانہ بنائیں گے، اور یہ کاروائی کتنے عرصے تک جاری رہے گی، لیکن یہ امر مسلم ہے کہ یہ کاروائی مشترکہ ہوگی، تمام مقاومتی محاذوں سے بیک وقت یا یکے بعد دیگرے حملے ہونگے یوں صہیونی گینگ کے خلاف یہ مشترکہ کاروائی انتہائی شدید، وسیع، فیصلہ کن اور ناقابل فراموش ہوگی اور امریکی اور صہیونی فیصلہ سازوں کی سوچ اور منصوبوں کو اس انداز سے بدل دے گی کہ وہ مستقبل میں سرخ لکیروں کو عبور کرنے باز رہیں؛ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر انہیں دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑے گی۔
امکان یہ ہے کہ اسماعیل ہنیہ، فؤاد شُکر، ابوالحسن المالکی سمیت عراقی شہیدوں نیز امریکیوں اور صہیونیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے یمنی شہداء کی خونخواہی کی یہ مشترکہ کاروائی جنوبی لبنان، مغربی شام، عراق، یمن اور ایران سے انجام پائے گی، اور یہ حملے مقبوضہ تل ابیب اور مقبوضہ حیفا میں غاصب صہیونی ریاست کی صنعتی، معاشی شریانوں اور ـ اور ممکنہ طور پر کچھ امریکی اڈوں ـ کو نشانہ بنایا جائے گا۔ صہیونیوں نے فوجی کاروائیاں کی ہیں چنانچہ ان کے تمام ٹھکانے ایرانی افواج اور مقاومت فورسز کے لئے جائز نشانہ سمجھے جاتے ہیں؛ صہیونیوں نے خون کیا ہے چنانچہ ان کا خون کیا جائے گا۔ یقینی طور پر صہیونی ریاست جغرافیائی اعتبار سے بالکل زد پذیر اور غیرمحفوظ ہے یہاں تک کہ محاذ مقاومت اگر چاہے تو اس کے زیر قبضہ تمام فلسطینی علاقوں کو بہ آسانی نشانہ بنا سکتا ہے۔
- ایران کے مغربی صوبے کرمانشاہ سے حیفا کی تزویراتی بندرگاہ کا فاصلہ: 1000 کلومیٹر، اور تل ابیب کا فاصلہ: 1040 کلومیٹر
- یمن سے حیفا کا فاصلہ: 1900 کلومیٹر اور تل ابیب کا فاصلہ 1850 کلومیٹر
- جنوبی لبنان سے حیفا کا فاصلہ 40 کلومیٹر اور تل ابیب کا فاصلہ 125 کلومیٹر
- شام کے سرحدی علاقے سے حیفا کا فاصلہ 100 کلومیٹر اور تل ابیب کا فاصلہ 165 کلومیٹر
- اور عراق کی سرحدوں سے حیفا کا فاصلہ 650 کلومیٹر اور تل ابیب کا فاصلہ 690 کلومیٹر
۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ مجدل شمس پر حزب اللہ کے حملے کا الزام؛ حقیقت کیا ہے؟ / صہیونی مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں / اسرائیل عربوں کے لئے مگرمچھ کے آنسو نہ بہائے + ویڈیو اور تصاویر
https://ur.abna24.com/story/1475474
۔۔۔۔۔۔
110